نئی دہلی7مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) اتر پردیش میں بی جے پی کے خلاف قائم اپوزیشن اتحاد مزید مضبوط ہو رہا ہے۔کیرانہ لوک سبھا سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے پیش نظر قومی لوک دل (آر ایل ڈی) کے نائب صدر جینت چودھری اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) صدر اکھلیش یادو کی ملاقات نے ایک نئی کہانی شروع کر دی ہے۔ قومی لوک دل کے نائب صدر جینت چودھری نے کہا کہ کیرانہ ضمنی انتخاب کا نتیجہ گورکھپور اور پھول پور کی طرح ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایس پی کے ساتھ 2019 میں بھی اتحاد جاری رہے گا۔ وہ اپوزیشن کو ڈرانے کے لئے سرکاری مشینری کا استعمال کرنے لگتے ہیں،مگر ہم ان کے دھونس کے آ گے نہیں جھک سکتے ، اگر ہم جھک گئے تو پھر جمہوریت فنا ہوجائے گی ۔ مایاوتی کے خلاف سی بی آئی جانچ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ انتخابات آتے ہی جناح اور ٹیپو سلطان ؒ بی جے پی کو یاد آ جاتے ہیں اور ممکن ہے کبھی ظل الٰہی ظہیر الدین بابر جیسی تاریخی ہستیوں کو بھی زندہ کرکے اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے لگیں گے ۔لوگوں کے اندر حکومت کو لے کر اشتعال ہے اور وہ سبق سکھائیں گے۔ واضح ہو کہ سماجوادی پارٹی مسلم، دلت اور جاٹ ووٹ پر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے جو 9 لاکھ سے زیادہ ہیں۔ وہیں سماج وادی پارٹی کے قومی سکریٹری اور ترجمان راجندر چودھری نے اس میٹنگ میں ہوئی بات چیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہونے کی بات کہی۔ اگرچہ کیرانہ ضمنی انتخابات میں آر ایل ڈی کی مدد دیئے جانے کا امکان کے سوال پر انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ ایس پی کیرانہ لوک سبھا اور نورپور اسمبلی کے ضمنی انتخاب لڑنے کی تیاری میں پہلے سے ہی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ایس پی صدر اکھلیش یادو نے پارٹی کے ریاستی صدر نریش اتم کو دونوں حلقوں میں بھیجا تھا وہاں انہوں نے کارکنوں اور ٹکٹ کے دعویداروں کے ساتھ ملاقات کی اور چار دن پہلے اپنی رپورٹ اکھلیش کو سونپ دی تھی ۔